فہم و فراست
قسم کلام: اسم کیفیت
معنی
١ - عقل اور سمجھ، عقل اور قیافہ۔ "ایک فلسفی . اپنی فہم فراست سے مسائل کے حل تلاش کرتا ہے۔" ( ١٩٨٧ء، فلسفہ کیا ہے، ٢١٢ )
اشتقاق
عربی زبان سے مشتق اسم 'فَہْم' کو حرف عطف 'و' کے ذریعے عربی ہی سے مشتق اسم 'فراست' کے ساتھ ملانے سے مرکب عطفی بنا جو اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٩٨٧ء کو "فلسفہ کیا ہے" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - عقل اور سمجھ، عقل اور قیافہ۔ "ایک فلسفی . اپنی فہم فراست سے مسائل کے حل تلاش کرتا ہے۔" ( ١٩٨٧ء، فلسفہ کیا ہے، ٢١٢ )
جنس: مؤنث